PEDRO PARDO / AFP

سی پی جے حفاظتی مشورہ : کورونا وائرس وباء کا کوریج

اپڈیٹ 25 مارچ 2020

عالمی ادارہ صحت ( WHO ) نے 11 مارچ 2020 کو، کووڈ۔19 ( جدید کورونا وائرس ) کوعالمی وباء قراردیا تھا اورWHO کے مطابق، عالمی سطح پرمتاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس عالمی وباء کے پھیلاؤ سے متعلق مستند اور قابل اعتماد جانکاری حاصل کرنے کیلئے جان ہاپکنس یونیورسٹی کوروناوائرس ریسورس سنٹر ملاحظہ کریں۔ 

دنیا بھر کے صحافی عوام کو وائرس اوراس سے نمٹنے کیلئے کی جارہی حکومتوں کی کوششوں سے متعلق باخبرکرنے میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ میڈیا کے اراکین کو دوران سفر، انٹرویوزاورانکے کام کرنے کی جگہوں پرمتعدی مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

جیسے جیسے صورتحال میں تبدیلی آئیگی اورنئی جانکاری ملیگی، متعلقہ حکام کی جانب سے صحت سے متعلق تازہ ترین رہنمائی اوروباء کی خبریں جاری کی جاتی رہیں گی۔ وباء کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو خود کو تازہ ترین مشوروں اور تحدیدات سے باخبر رکھنے کیلئے عالمی ادارہ صحت  (WHO) او مقامی ادارہ صحت عامّہ کی فراہم کردہ جانکاری پر نظر رکھنی چاہئے۔

رپورٹنگ کے دوران خود کو محفوظ رکھنا 

وسیع پیمانے پربین الاقوامی سفری پابندیوں کے نفاذ کے سبب، اس بات کا امکان ہیکہ مستقبل قریب میں میڈیا کی تمام تفویضات اندرون ملک انجام دینی پڑے۔ دنیا بھر میں تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں کی وجہ سے قوی امکان ہیکہ بغیراطلاع یا پھرآخری وقت میں تمام تفویضات میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے یاپھر انہیں منسوخ کردیا جاسکتا ہے۔ 

جو صحافی کوووڈ۔19 کی رپورٹنگ کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں مندرجہ ذیل حفاظتی جانکاری پرتوجہ دینی چاہئے ۔  

ماقبل تفویض

  • امریکہ کے سنٹرس فار ڈسیز کنٹڑول اینڈ پریونشن  (CDC) کے مطابق عمررسیدہ اورایسے افراد جو پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا ہوں، انہیں  high risk کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔اگر آپ کا شمار ان زمروں میں ہوتا ہے تو آپ کو ایسے کسی بھی اسائنمنٹ پر کام نہیں کرنا چاہئے جس میں آپ کو عوام سے رابطہ کرنا پڑے۔ اگرمیڈیا کی کوئی رکن حاملہ ہے تو اسے بھی اس طرح کے اسائنمنٹ سے دوررکھا جانا چاہئے۔
  •  بزفیڈ کی نسل پرستانہ حملے کی رپورٹ کے مطابق چند ممالک کے باشندوں کے خلاف نسل پرستانہ حملے ہوئے ہیں، اسلئے انتظامیہ کو کووڈ۔19 وباء کی رپورٹنگ کیلئے عملے کا انتخاب کرتے وقت اس حقیقیت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ یاد رہے کہ اددیس ابابا میں قائم امریکی سفارت خانے نے حالیہ دنوں میں ملک میں غٰیر ملکی باشندوں کے خلاف دشمنی اورانہیں نشانہ بناکر کئے جانے والے واقعات سے متعلق الرٹ جاری کیا تھا۔ جیسے جیسے وباء پھیلے گی ویسے ویسے اس طرح کے واقعات عام ہوسکتے ہیں۔
  • اپنی انتظامی ٹیم سے یہ معلوم کریں کہ اگرآپ اسائنمنٹ کے دوران بیمارپڑجاتے ہیں، یا ممکن ہے خود کو سب سے الگ تھلگ رکھنے کی ضرورت پیش آجائے اور/یا قرنطینہ یا لاک ڈاون والے  زون میں ایک مدت تک کیلئے پھنس جائیں توانکے پاس آپ کی مدد کیلئے کیا منصوبہ ہے۔

نفسیاتی خوشحالی

  • اگرآپ کووڈ.19 وباء کی رپورٹنگ کا ارادہ رکھتے ہیں توظاہر ہے آپ کے افراد خانہ فکرمند اور/ یا پھر تناو کا شکار ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ان سے اسائنمنٹ کے ممکنہ خطرات اورانکے خدشات کے بارے میں بات چیت کریں۔ اگر ہوسکے تواپنی تنظیم کے میڈیکل مشیروں کے ساتھ افراد خانہ کی بات چیت کروائیں۔
  • کووڈ۔19 متاثرہ جگہ یا علاقے سے رپورٹنگ کرنے کے نفسیاتی اثرات سے بھی آگاہ رہیں، اسکے ذہنی اثرات بالخصوص اس وقت آپ پر حاوی ہوسکتے ہیں جب آپ میڈیکل یا آئیسو لیشن وارڈ یا قرنطینہ زون سے رپورٹنگ کررہے ہوں۔ ٹراما مراکز سے رپورٹنگ کرنے والے میڈیا کے اراکین کیلئے ڈارٹ سنٹر فار جرنلزم اینڈ ٹراما پر مفید معلومات دستیاب ہیں۔
  •  

انفیکشن سے بچنا اور دوسروں کو اس سے بچانا

کئی ممالک میں اب  سماجی یا طبعی فاصلہ بندی کے طریقوں کو اپنایا جارہا ہے۔ اگرآپ کسی ہیلتھ کئیر فیسیلیٹی، اولٖڈ ایج ہوم، کسی بیمار شخص کے گھر، مردہ خانہ۔ قرنطینہ زون، گنجان آبادی والا علاقہ ( جیسے سلم بستی یا فاویلا )یا مویشی منڈی اور/یا کھیت جارہے ہوں تو ان جگہوں کا سفر کرنے سے پہلے ہی وہاں کی صفائی ستھرائی کے بارے میں جانکاری حاصل کرلیں۔ اگرآپ کو شبہ ہے، تو نہ جائیں۔ انفیکشن سے بچنے کیلئے چند اہم معیاری سفارشات اسطرح ہیں :

  • ہر شخص سے کم سے کم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں، بالخصوص ایسے لوگوں سے جن میں کھانسی اور چھینک وغیرہ جیسی  تنفسی عارضے کی علامتیں موجود ہوں
  • عمررسیدہ لوگوں، پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا افراد، کوئی بھی فرد جو کسی علیل شخص کا قریبی ہو، کووڈ۔ 19 مریضوں کا علاج کرنے والے ہیلتھ ورکروں یا پھر زیادہ طبی خطرے والے علاقوں میں کام کرنے والوں کا انٹرویو کرتے وقت صحافیوں کو انکے اور اپنے درمیان خاص طور پر خاص دوری قائم رکھنی چاہئے۔  
  • اپنے ہاتھوں کو کم سے کم بیس سکینڈس کیلئے مسلسل گرم پانی اور صابن کے ساتھ اچھی طرح دھولیں۔ اسکے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح سکھالیں۔ ہاتھوں کو کس طرح دھونا اور پھر انہیں اچھی طرح سکھانے سے متعلق آپ WHO کی ویب سائیٹ پر دستیاب مفید گائیڈ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ 
  • اگر گرم پانی اورصابن دستیاب نہ ہو تو اینٹی بیکٹیرئیل جیل یا وائیپس کا استعمال کریں لیکن بعد میں جتنی جلدی ہوسکے گرم پانی اورصابن سے اپنے ہاتھ دھولیں۔ (CDC کی سفارش کے مطابق کم سے کم  %60 ایتھونول یا %70 آئی سوپروپونول  سے زیادہ مقدار سے بنےالکوحل کےہیانڈ سیانی ٹائزرس استعمال کرنے چاہئے۔) ہیانڈ سیانی ٹائزر کے استعمال کو صابن سے ہاتھ دھونے کے معمول کا متبادل نہ بنائیں۔ 
  • کھانستے اورچھینکتے وقت اپنا منہہ اورناک ہمیشہ ڈھک لیں۔ اگرآپ نے کھانستے یا چھینکتے وقت ٹیشیو پیپر کا استعمال کیا ہوتواسے فوری طورپر کسی محفوظ مقام پر کوڑا دان میں پھینک دیں، اور بعد میں اپنے ہاتھوں کواچھی طرح دھونا نہ بھولیں۔ 
  • جیسا کہ BBC نے بتایا ہے۔۔ اپنا چہرہ، ناک، منہہ، کان وغیرہ کو چھونے سے بچیں۔
  • ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے، گلے لگانے اور/یا چومنے سے بچیں۔ اسکے بجائےملاقات کرتے وقت کہنی یا پیر ٹکرانے کو ترجیح دیں۔ 
  • ایسی پیالیوں، چینی برتن، یا کٹلری سے پینے یا کھانے سے بچیں، ہوسکتا ہے اسے دوسرے لوگوں نے استعمال کیا ہو۔
  • ہراسائنمنٹ سے پہلے اپنی جوئیلری اور گھڑیاں اتاردیں۔ اس بات کونوٹ کرلیں کہ کووڈ۔19 وائرس مختلف سطحوں پر مختلف وقت کیلئے زندہ رہ سکتا ہے۔
  • اگرآپ عینک لگاتے ہوں تو انہیں باقاعدگی کے ساتھ گرم پانی اورصابن سے صاف کیا کریں۔ 
  • اسائنمنٹ کیلئے پہنے جانے والے کپڑوں کا بھی صحیح انتخاب کریں۔ کیونکہ بعض کپڑے دوسرے کپڑوں کی بہ نسبت آسانی سے دھل سکتے ہیں۔ کسی بھی اسائنمنٹ کے بعد تمام کپڑوں کو ڈیٹرجنٹ کے ساتھ گرم پانی میں دھولینا چاہئے۔
  • آسائنمنٹ کیلئے  استعمال کی جانے والی گاڑی کے تعلق سے بھی خیال رکھیں۔ زیادہ ٹریفک کے وقت سرکاری بسوں یا ٹرینوں میں سفر کرنے سے گریز کریں اوران گاڑیوں سے اترنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح الکوحل والے جیل سے صاف کرنا نہ بھولیں۔ اگرآپ اپنی گاڑی میں جارہے ہیں تواس بات کو یاد رکھیں کہ ایک متاثرہ سواری گاڑی میں بیٹھے دوسرے سواریوں میں اس وباء  کو پھیلاسکتا ہے۔
  • وقفے وقفے سے بریک لیتے رہیں اوراپنی تھکن /جسمانی طاقت کا خیال کریں، ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ تھکا ماندہ  شخص اپنی صفائی ستھرائی سے متعلق زیادہ لاپرواہی برت سکتا ہے۔ اس بات کو بھی ملحوظ رکھیں کہ آپ کو کام سے پہلے اور بعد میں طویل سفر کرنا پڑسکتا ہے۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ علاقے میں داخلہ سے قبل، دوران اسائنمنٹ اورانفیکشن کے مقام سے نکلنے کے بعد آپ اپنے ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح دھولیں۔ 

سازوسامان کی حفاظت

  • کلپ مائیکس کے بجائے سمتی ۔ فش پول ۔ مائکروفونس کا مناسب فاصلے سے استعمال کریں۔
  • ہر اسائنمنٹ کے بعد مائیکروفون کے کورس کو اچھی طرح دھوئیں اوراس پرجراثیم کش ادویات کا چھڑکاو کریں۔ مائیکروفون کا کور نکالتے وقت اسے ممکنہ انفیکشن سے بچانے کیلئے کسی سے رہنمائی یا تربیت حاصل کریں۔ 
  • تمام سازوسامان کو ہمیشہ جلدی اثرکرنے والے اینٹی مائیکروبیئل وائپس جیسے میلی سیپٹول سے صاف کریں۔ اسکے بعد سیل فونس، ٹیالیٹس، لیڈس، پلگس، ائیر فونس، لیاپ ٹاپس، ہارڈ ڈرائیوس، کیمرے، پریس پاسیس اور لیان یارڈس وغیرہ کو اچھی طرح سے جراثیم سے پاک کرلیں۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام سازوسامان کو واپس انکی جگہ رکھنے سے پہلے انہیں اچھی طرح سے جراثیم سے پاک کیا گیا ہو۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنائیں کہ سازوسامان کا ذمہ دارعملہ اس صفائی سے متعلق پوری طرح آگاہ ہواوروہ سازوسامان کی صفائی کے طریقہ کار کی تربیت حاصل کرچکا ہو۔ اس بات کا بھی خیال کریں کہ کوئی بھی سامان صفائی کیلئے ذمہ دارعملے کو سونپے بغیرایسے ہی کہیں پڑا ہوا نہ ہو۔
  • اگرآپ کے پاس کوئی جراثیم کش دستیاب نہیں ہے تواس بات کو یاد رکھیں کہ استعمال شدہ سامان پر سورج کی راست کرنیں پڑنے سے اس پر جمع جراثیم مرجاتے ہیں۔  بدترین حالات میں اوراگرآپ کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے تو اپنے سازوسامان کو کئی گھنٹوں کیلئے دھوپ میں رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ اس طرح کرنے سے آپ کے سازو سامان کا رنگ اڑسکتا ہے یا سامان کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
  • اگراسائنمنٹ کیلئے کوئی گاڑی استعمال کی جارہی ہے تو اسائنمنٹ کے بعد تربیت یافتہ ٹیم کے  ہاتھوں اسکے اندرونی حصے کی اچھی طرح صفائی کروائیں۔ گاڑی کے ڈورہینڈل، اسٹئیرنگ ویل، ونگ میررس، ہیڈ ریسٹس، سیٹ بیلٹس، ڈیاش بورڈ اورونڈو وائنڈر/کیاچس/بٹنس کی صفائی پرخاص دھیان دیا جانا چاہئے۔

پرسنل پروٹیکٹیو اکویپمنٹ (PPE)

  • کسی بھی احتیاطی وسائل یعنی PPE (جیسے ڈسپوزبل گلوس، فیس ماسکس، حفاظتی ایپرنس اور ڈسپوزبل شو کورس ) کو احتیاط کے ساتھ پہننے اوراسے اتارتے وقت خود کی حفاطت کے بہترین طریقوں کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ CDC کی عام رہنمائی کیلئے یہاں کلک کریں۔  احتیاط نہ برتنے پرجراثیم آپ کے اندرمنتقل ہوسکتے ہیں، اسلئے ان ہدایات کو نظرانداز نہ کریں۔ 
  • اگرآپ کسی متاثرہ مقام جیسے ہیلتھ فیسیلیٹی یا مردہ خانے میں کام کرتے ہیں توآپ کو ڈسپوزبل جوتے یا واٹر پروف اوور شوز پہننا پڑسکتا ہے۔ جیسے ہی آپ اس مقام سے نکل جائیں تو دونوں طرح کے جوتوں کو صاف کرنا یا پھردھولینا چاہئے۔اگر آپ واٹر پروف اوورشوز استعمال کررہے ہیں تو وہاں سے نکلنے سے پہلے ان جوتوں کو کسی مخصوص کوڑا دان میں پھینک دیں اورپھردوبارہ استعمال نہ کریں۔
  • اگر آپ متاثرہ مقام جیسے میڈیکل ٹریٹمنٹ فیسیلیٹی میں کام کرتے ہوں یا وہاں جارہے ہوں تو حفاظتی دستانے استعمال کریں۔ اس جگہ جانے کیلئے دیگر میڈیکل PPE جیسے باڈی سوٹ اور مکمل فیس ماسک بھی لازمی ہوسکتے ہیں۔ 

فیس ماسک

CDC اور WHO کا اس بات پراتفاق ہیکہ اگر کسی شخص میں کورونا وائرس کی علامتیں نہیں ہیں تواسکے لئے فیس ماسک لگانا ضروری نہیں ہے۔ تاہم، مقامی حکام کی طرف سے ضروری ہدایات جاری کرنے کی صورت میں آپ کو ماسک لگانا پڑسکتا ہے ۔ مثلاَ آپ اسپتال جیسے زیادہ خطرے والی جگہ پرموجود ہوں؛ یا پھر آپ کسی ایسے شخص کی دیکھ بھال کررہے ہوں جس پرشبہ ہیکہ وہ کووڈ۔19 متاثرہ ہے۔ برائے مہربانی نوٹ کرلیں کہ کئی ممالک میں سرجیکل PPE کا فقدان ہے، اسلئے ان ممالک میں اسکے استعمال سے قلت ہوسکتی ہے۔اگرآپ کو فیس ماسک پہننا پڑے توآپ کو درجہ ذیل باتوں کی پابندی کرنی ہوگی :

  • اگر ضرورت پڑے تو N95 (یا FFP2 / FFP3) ماسک لگائیں کیونکہ اسے معیاری ’ سرجیکل ‘ ماسک پر ترجیح دی گئی ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ماسک ناک کی ہڈی اورتھوڑی کے بیچ اچھی طرح فٹ بیٹھ جائے۔ چہرے کے بالوں کو بھی کاٹ لیا کریں۔  
  • ماسک کو نہ چھوا کریں،اورماسک کی ڈوریاں پکڑ کرہی اسے اتاریں۔ ماسک کے سامنے کے حصے کو نہ بالکل بھی ہاتھ نہ لگائیں۔
  • اگر ماسک گیلا ہوجائے یا اس میں نمی آجائے تو اسے اتاردیں اور پھرایک نیا، صاف ستھرا اور خشک ماسک پہن لیں۔ 
  • فیس ماسک کو دوبارہ استعمال نہ کریں، اور استعمال شدہ ماسک کو ہمیشہ سیل بند بیاگ میں ڈال کراسے فوری کسی کوڑادان میں پھینک دیں۔ 
  • یاد رکھیں ماسک کا استعمال خود کو محفوظ رکھنے کی احتیاطی تدابیرکا صرف ایک حصہ ہے اوراسکے ساتھ آپ کو گرم پانی اور صابن سے مسلسل اپنے ہاتھ دھوتے رہنا ہوگا اورآنکھوں، منہہ، کان اور ناک سمیت چہرے کے کسی بھی حصے کو چھونے سے بچنا ہوگا۔ 
  • کپاس یا گاز کا ماسک ہرگزاستعمال نہ کریں۔ 

ڈجیٹل سکیورٹی

  • اس بات سے باخبررہیں کہ کووڈ۔19وباء  کی رپورٹنگ کی وجہ سے صحافیوں کے خلاف آن لائن دشمنی یا ٹرولنگ کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ اپنے اوپر ہونے والے سائبر حملوں سے خود کو بچانے کیلئے CPJ کے بہترین طریقوں کا جائزہ لیں۔ 
  • حکومتیں اور ٹکنالوجی کمپنیاں کووڈ۔19کے پھیلاو کا پتہ لگانے کیلئے تیزی سے الیکٹرانی سرویلنس کا استعمال کررہی ہیں۔ اس میں   NSO Group بھی شامل ہے جس نے  Pegasus نامی اسپائی وئیر(spyware) سافٹ وئیر تیار کیا تھا۔ سٹیزن لیاب کے مطابق، جرنسلٹوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس سافٹ وائیر کا استعمال کیا گیا ہے۔ سیول لبرٹیز گروپس کو خدشہ ہیکہ عالمی وباء  ختم ہونے کے بعد عوام کو نشانہ بنانے کیلئے ان سرویلنس تکنیکوں کا کس طرح سے استعمال کیا جائیگا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل عالمی سطح پررونما ہونے والی ان تبدیلیوں کو اپنی ویب سائیٹ پر ریکارڈ کررہا ہے۔ 
  • کووڈ۔19 کی جانکاری سے متعلق لنکس پرکلک کرنے اورڈاکومنٹس کو ڈاون لوڈ کرنے سے قبل توقف کریں اورتھوڑی دیرسوچیں، کیونکہ الیکڑانک فرنٹئیر فاونڈیشن کے مطابق، مجرمین جاریہ صحت کے بحران اور خوف وہراس کا فائدہ اٹھاکرافراد اورتنظیموں پر فیشنگ حملے کررہے ہیں اور اسکے ذریعے آپ کے کمپیوٹراورفونس میں مال وئیر(malware) بھی انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 
  • سوشل میڈیا یا مسیگنگ ایپس پر کووڈ۔ 19 سے متعلق بھیجے جانے والے لنکس پر کلک کرتے وقت احتیاط برتیں، اسلئے کہ یہ لنکس آپ کوایسی سائیٹس تک پہنچا دیں گے جو آپ کی الیکٹرانک ڈیوائسس میں مال وئیرمنتقل کرسکتے ہیں۔ 
  • ایسے ایپس سے محتاط رہیں جو کووڈ۔19 ٹریکر جیسے ریانسم وئیر کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ 
  • WHO جیسے معروف ذرائع کی طرف سے جاری کردہ کووڈ۔19 کی تازہ ترین جانکاری دینے والے میاپس میں مبینہ طورپرمال وئیرپایا گیا ہے اور اسے یوزرس کے پاس ورڈس چرانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  • میسیجنگ ایپس پر چیاٹ کے ذریعے کووڈ۔19 سے متعلق شئیر کی جانے والی جانکاری سے محتاط رہیں، اس میں فرضی خبراورہوکس (hoax) بھی ہوسکتا ہے۔  
  • آگاہ رہیں کہ فیس بک پر موجود کووڈ۔19 مواد کا تجزیہ انسانوں کے بجائے اب آرٹفیشئل انٹلی جنس ( AI) کے ذریعے کروایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں اس وبائی مرض سے متعلق صحیح جانکاری کو غلطی سے حذف کردیا جارہا ہے۔
  • آمرانہ حکومتوں کے زیراثرممالک میں اور/ یا ان ممالک سے کورونا وائرس وباء کی رپورٹنگ کرنے سے پیداشدہ خطرات سے محتاط رہیں، ہوسکتا ہیکہ یہ حکومتیں کووڈ۔19 وباء سے متعلق میڈیا کوریج پرکڑی نظررکھ رہی ہوں۔ CPJ کی رپورٹ کے مطابق بعض حکومتیں وبائی مریضوں اوراموات کی حقیقی تعداد کو مخفی رکھنا چاہتی ہیں اور/یا اسلئے سچائی بیان کرنے والے میڈہا کو سنسر کرسکتی ہیں۔ 

اسائنمنٹ کے دوران فزیکل سکیورٹی 

  • اگرصحافی جیل یا حراستی مرکز سے رپورٹنگ کررہے ہوں توانہیں کووڈ۔19 وباء  سے متعلق احتجاج اور/یا فساد کرنے والے قیدیوں سے چوکنا رہنا چاہئے۔ کیونکہ، اس طرح کے واقعات حالیہ دنوں میں اٹلی، کولمبیا اور بھارت میں پیش آئے ہیں۔ 
  • امریکہ، آئرلینڈ، فلسطین اور ایران جیسے ممالک نے کووڈ۔19وباء  کے دوران جیلوں کی آبادی میں کمی لانے کیلئے قیدیوں کورہا کرنا شروع کردیا ہے، اسلئے ان ممالک میں جرائم کی شرح میں امکانی اضافے سے خبرداررہیں ۔اس بات کو نوٹ کرلیں کہ ان ممالک میں اشیائے ضروریہ کی سپلائیز کی کمی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے واقعات بڑھنے کے اندیشے ہیں۔ 
  • CPJ کے مطابق آمرانہ حکومتوں والے ممالک میں کووڈ۔19 وباء  کی رپورٹنگ کرتے وقت صحافیوں کو حراست اور/یا گرفتاری کے خطرے سے الرٹ رہنا چاہئے۔ 

بین الاقوامی سفری تفویضات

عالمی سطح پر سفری پابندیوں کی وجہ سے، بین الاقوامی سفراب انتہائی دشوار گذاراورغیرمعمولی طورپرکم ہوگیا ہے۔ اگربیرون ملکی اسائنمنٹ ممکن ہوا تو آپ کو درجہ ذیل نکات پرغورکرنا ہوگا۔

  • آپ جس ملک کو جانے  کا منصوبہ بنارہے ہیں وہاں جانے سے قبل آپ تمام لازمی ٹیکہ اندازی اورڈزیس پروفیل ایاکسس  ( disease prophylaxis ) کروالیں۔ فلو کا بھی ٹیکہ لگوالیں تاکہ کسی بھی طرح کی علامتوں کے بارے میں آپ بعد میں کسی الجھن میں نہ پڑجائیں۔ 
  • اگرآپ کسی پروگرام میں جانے کا منصوبہ رکھتے ہیں تومسلسل اس کا اسٹیٹس معلوم کرتے رہیں کیونکہ کئی ممالک نےعوامی اجتماعات کو پوری طرح سےبند کردیا ہےیا پھرمحدود تعداد سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پرپابندی لگادی ہے۔   
  • آپ اپنے بیرون ملکی دورے سے متعلق موجودہ اور/یا امکانی سفری پابندی پرلگاتارنظربنائے رکھیں۔ آگے چل کرعالمی سطح پر بیرون ملکی باشندوں پراضافی پابندیاں اور/یا تحدیدات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ 
  • اپنا ایک ہنگامی منصوبہ بنالیں کیونکہ شہری مراکز، مخصوص علاقے، اورْ یا پورے ملک کی ناکہ بندی کی جاسکتی ہے اورکم وقت میں یا بنا بتائے کسی بھی مشکوک شخص کو قرنطینہ کیا جاسکتا ہے۔ چند تنظیموں اورمالکین نے دنیا بھر میں موجود اپنے اسٹاف کو وہاں سے باہر نکالنے کی تیاریاں میں اضافہ کردیا ہے۔  
  • دنیا بھرکے ممالک میں کئی بین الاقوامی سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے۔ آگے اوربھی سرحدیں بند کی جا سکتی ہیں۔ اسلئے آپ کو اپنا ہنگامی منصوبہ بناتے وقت اس چیز کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔
  • اگرآپ بیمارہوں توسفرنہ کریں۔ زیادہ تربین الاقوامی اورعلاقائی ائیرپورٹس اورحمل ونقل کے دیگرمراکزمیں ہیلتھ اسکریننگ اقدامات کی سختی سے پابندی کی جارہی ہے۔ مسافرین کی آمد پرانہیں ٹسٹنگ کے مرحلے سے گذرنا پڑسکتا ہے اور/یا حکام کو شبہ ہونے پر انہیں قرنطینہ یا سیلف آئی سولیشن میں رکھا بھی جاسکتا ہے۔ 
  • ائیرلائنس کی طرف سے کئی ممالک کو جانے اورآنے والی پروازوں کی منسوخی کے سبب عالمی سفر کے تقریباَ راستے بند ہوگئے ہیں۔ کووڈ۔19 کیسس میں اضافے کی وجہ سے آگے بھی پروازیں منسوخ ہوسکتی ہیں۔
  • آپ ایسی ٹکٹ خریدیں جس کا آپ پورا ریفنڈ ملے۔ IATA کے مطابق، کووڈ۔19 سے کئی ائیرلائنس کو مالی پریشانی ہورہی ہے ۔ یہ بھی سمجھا جارہا ہیکہ حالیہ دنوں میں یوروپ کی سب سے بڑی علاقائی ائیرلائن FlyBe کے بند ہونے میں کورونا وائرس سے پیداشدہ صورتحال کا اہم رول رہا ہے۔ 
  • اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کو اپنے ساتھ کونسی ضروری چیزین لے جانی ہیں۔ اسٹاک کے ختم ہوجانے کے خوف کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ فیس ماسکس، ہیانڈ سیانی ٹائزرس، صابن، ٹن فوڈ اور ٹائلیٹ پیپر جیسی اشیا کی کمی کی خبریں مل رہی ہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ہڑتالی کال اور/یا کووڈ۔19 انفیکشنس کی وجہ سے ورکروں کے کام پرنہ آنے سے آپ جس بیرون ملک میں ہیں وہاں کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ 
  • آگاہ رہیں کہ اردن جیسے پانی کی قلت والے ممالک میں پانی کی استعمال کی مانگ بڑھنے سے پانی کی قلت ہوسکتی ہے۔
  • آپ جس ملک کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں وہاں کے ویزا کی تازہ صورتحال کا پتہ کریں، کیونکہ کئی ملکوں نے ویزے جاری کرنے بند کردئے ہیں اورجاری کردہ ویزے بھی منسوخ کردئے ہیں۔ 
  • پتہ کریں کہ آپ جس ملک کا سفر کررہے ہیں وہاں کورونا وائرس سے متعلق مسافرین کیلئے  کیا ہدایات ہیں۔ کہیں آپ کو میڈیکل سرٹی فکیٹ کے ذریعے یہ ثابت تو نہیں کرنا پڑیگا کہ آپ کووڈ۔19 سے متاثرنہیں ہے۔ اسکی چند مثالیں دیکھنے کیلئے آپ یہاں کلک کریں۔ 
  • اپنے ساتھ قابل ترمیم سیاحت نامہ ( itinerary ) رکھیں اوراس بات کو ذہن میں رکھیں کہ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں میں ہیلتھ اسکرینگ اقدامات  کی وجہ سے اوردرجہ حرارت کے چیک پوائنٹس پرمسافرین  کی طبی جانچ کیلئے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ چند ریلوے اسٹیشنوں، بندرگاہوں اورمرکزی بس اسٹیشنوں پربھی آپ کو اس طرح کی اسکریننگ کے مرحلے سے گذرنا پڑسکتا ہے۔ 
  • آپ جس ملک کا سفر کررہے ہیں اس مقام کی سفر سے متعلق کسی بھی قسم کی تبدیلی سے آگاہ رہیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ چند ممالک غیرملکی باشندوں کو مخصوص ہوائی اڈوں اور ٹرمنلس کےراستے ہی ملک میں داخلے کی اجازت دیں گے۔
  • آپ جس ملک کا سفر کررہے ہیں اس ملک کی مقامی خبروں پر لگاتارنظررکھیں تاکہ آپ وہاں عوامی آمد ورفت پر لگائی جانے والی پابندیوں سے باخبررہ سکیں۔  

مابعد اسائنمنٹ

  • اپنی صحت کا مسلسل خیال کرتے رہیں کہ کہیں آپ کے اندرانفیکشن کی نشانیاں ظاہرتونہیں ہورہی ہیں۔
  • اگر آپ کسی ایسے مقام سے لوٹ رہے ہیں جہاں انفیکشن کی شرح زیادہ ہے تو آپ کو خود کو سب سے الگ تھلگ کرلینا ہوگا۔ برائے مہربانی اس بارے میں حکومت کی ضروری ہدایات سے واقفیت حاصل کریں۔ 
  • اپنے ملک اورجس ملک میں آپ رپورٹنگ کررہے ہیں ان دونوں مقامات میں کووڈ۔19 سے متعلق جانکاری اورتازہ ترین اپڈیٹس کے ساتھ ساتھ نافذ کردہ قرنطینہ اورآئی سولیشن کے طریقہ کاروں سے باخبررہیں۔
  • آپ جس ملک میں ہیں وہاں انفیکشن کی شرح بڑھ گئی ہوتوآپ کوایسے تمام لوگوں کے نام اورفون نمبرات کی فہرست بنالینی چاہئے جن سے آپ سفر سے لوٹنے کے بعد چودہ دنوں تک ملے ہو۔ اگر آپ کے اندراس مرض کی علامات ظاہرہونے لگیں توان لوگوں کی تلاش اوران سے رابطہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

–اگر آپ کے اندرعلامتیں ظاہر ہونی لگیں۔

  • اگرآپ کے اندر کووڈ۔19 کی علامتیں ظاہرہونی شروع ہوں یا پہلے سے ہوں، چاہے جتنی بھی معمولی علامتیں کیوں نہ ہوں، تو فوری اپنے انتظامیہ کو اطلاع دیں اوران سے کہیں کہ وہ آپ کو ائیرپورٹ یا کسی آمدورفت کے مرکز سے گھرتک جانے کیلئے مناسب ٹرانسپورٹ کا انتظام کریں۔ ایسی حالت میں ٹیکسی نہ لیں۔
  • خود کواور اپنی برادری کو محفوظ رکھنے کیلئے WHO،CDC   یا مقامی صحت عامہ کے حکام کی صلاح مانیں۔
  • اپنے اندرعلامتیں ظاہرہونے کے بعد کم سے کم 7 دنوں تک گھر سے باہرنہ نکلیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے انفیکشن سے آپکی برادری کے لوگ محفوظ رہ سکیں گے۔
  • وقت سے پہلے منصوبہ بنالیں۔ اپنے مالک، دوستوں اور افراد خانہ سے اپنی ضرورت کی چیزیں منگوالیں اورانہیں گھر کے دوازے کے باہر چھوڑ چھوڑجانے کیلئے کہیں۔
  • جب کبھی مکن ہو اپنے گھر والوں سے کم سے کم دو میٹر کا فاصلہ برقراررکھیں۔
  • اگرممکن ہوسکے تو تنہا سوئیں۔
  • اگر آپ کسی کے ساتھ فلیٹ شئیر کرتے ہیں تواس میں رہنے والے تمام افراد کو چودہ دنوں تک آئی سولیشن اختیارکرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں ایک مفید گائیٖڈ کا یہاں ملاحظہ کریں۔ جراثیم کی منتقلی سے بچنے کیلئے باتھ روم، ٹائلیٹ اورباورچی خانہ استعمال کرتے وقت خاص خیال رکھیں۔ 
  • اپنے ہاتھوں کو صابن اورگرم پانی سے کم سے کم 20 سکینڈس کیلئے باقاعدگی کے ساتھ اچھی طرح دھولیں۔ 
  • بزرگوں اور کسی عارضے میں مبتلا لوگوں سے کورونا وائرس وباء کے پھیلنے کا اندیشہ ہے، اسلئے جہاں تک ہوسکے ان سے دوررہنے کی کوشش کریں۔
  • آئی سو لیشن اختیار کرنے کیلئے آپ کو اپنے ملک کے صحت عامہ کے حکام کو اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے مگر ہاں اس دوران آپ کی علامتیں بڑھ جاتی ہیں توانہیں خبردی جاسکتی ہے۔  

CPJ  کی آن لائین سیفٹی کٹ صحافیوں اورنیوزرومس کو شہری بدامنی اور انتخابات کے کوریج سمیت طبعی، ڈجیٹل اور نفسیاتی حفاظتی وسائل اورآلات سے متعلق بنیادی حفاظتی معلومات فراہم کرتی ہے۔